حدیث نمبر: 23745
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَهُ ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوبُ يَقُولُ : عَلَيْكَ السَّلَامُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا إِنَّ مَلَكًا بَيْنَكُمَا يَذُبُّ عَنْكَ كُلَّمَا يَشْتُمُكَ هَذَا ، قَالَ لَهُ : بَلْ أَنْتَ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ ، وَإِذَا قَالَ لَهُ : عَلَيْكَ السَّلَامُ ، قَالَ : لَا بَلْ لَكَ أَنْتَ ، أنت أَحَقُّ بِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کے ساتھ تلخ کلامی کی وہ دوسرا آدمی " علیک السلام " ہی کہتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود ہے یہ شخص جب بھی تمہیں برا بھلا کہتا ہے تو وہ تمہارا دفاع کرتا ہے اور اسے جواب دیتا ہے کہ تم ہی ایسے ہو اور تم ہی اس کے زیادہ حقدار ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23745
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو خالد الوالبي روايته عن النعمان بن مقرن مرسلة