حدیث نمبر: 23448
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ عَبدِ اللَّهِ الْجَابرُ ، قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى مَوْلًى لِحُذَيْفَةَ بالْمَدَائِنِ عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبرَ خَمْسًا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا وَهِمْتُ وَلَا نَسِيتُ ، وَلَكِنْ كَبرْتُ كَمَا كَبرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بنُ الْيَمَانِ ، صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ وَكَبرَ خَمْسًا ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ : مَا نَسِيتُ وَلَا وَهِمْتُ ، وَلَكِنْ كَبرْتُ كَمَا " كَبرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَكَبرَ خَمْسًا " .
مولانا ظفر اقبال

یحییٰ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے شہر مدائن میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عیسیٰ کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی انہوں نے نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہیں پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں بھولا ہوں اور نہ ہی مجھے وہم ہوا ہے میں نے اسی طرح تکبیریں کہی ہیں جیسے میرے آقا اور ولی نعمت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے کہی تھی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23448
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يحيي بن عبدالله مختلف فيه، ولم يتابع على حديثه هذا، وعيسي موئي حذيفة ضعيف