حدیث نمبر: 23436
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنَا إِسْرَائِيلُ ، أَخْبرَنِي مَيْسَرَةُ بنُ حَبيب ، عَنْ الْمِنْهَالِ ، عَنْ زِرِّ بنِ حُبيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ قَالَتْ لِي أُمِّي : مَتَى عَهْدُكَ بالنَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : فَقُلْتُ : مَا لِي بهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : فَهَمَّتْ بي ، فَقُلْتُ : يَا أُمَّهْ ، دَعِينِي حَتَّى أَذْهَب إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا أَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَغْفِرَ لِي وَيَسْتَغْفِرَ لَكِ ، قَالَ : فَجِئْتُهُ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِب ، " فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَامَ يُصَلِّي ، فَلَمْ يَزَلْ يُصَلِّي حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ ، ثُمَّ خَرَجَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا کہ تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کب سے وابستہ ہو ؟ میں نے انہیں اس کا اندازہ بتادیا وہ مجھے سخت سست اور برا بھلا کہنے لگیں میں نے ان سے کہا کہ پیچھے ہٹیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہا ہوں مغرب کی نماز ان کے ساتھ پڑھوں گا اور اس وقت تک انہیں چھوڑوں گا نہیں جب تک وہ میرے اور آپ کے لئے استغفار نہ کریں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز پڑھائی اور واپس چلے گئے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23436
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح