حدیث نمبر: 23410
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ إِبرَاهِيمَ بنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ رِبعِيِّ بنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبنِي ، قَالَ : وَكَانَ إِذَا قَالَ : حَدَّثَنِي مَنْ لَمْ يَكْذِبنِي ، رَأَيْنَا أَنَّهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، قَالَ : لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبرِيلُ بأَحْجَارِ المِرَاءِ ، فَقَالَ : " إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ ، فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ ، فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبةً عَنْهُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک مرتبہ " احجارالمراء " نامی جگہ پر میری جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوگئی تو میں نے ان سے کہا کہ اے جبرائیل ! مجھے ایک امی امت کی طرف بھیجا گیا ہے جس میں مرد و عورت لڑکے اور لڑکیاں اور نہایت بوڑھے لوگ بھی شامل ہیں جو کچھ بھی پڑھنا نہیں جانتے تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم سات حروف پر نازل ہوا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23410
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، إبراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي، ولم يتابع عليه بهذا اللفظ