حدیث نمبر: 23377
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ , عَنْ صِلَةَ بنِ زُفَرَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ أَهْلُ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : ابعَثُوا إِلَيْنَا رَجُلًا أَمِينًا ، فَقَالَ : " لَأَبعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، حَقَّ أَمِينٍ " ، قَالَ : فَاسْتَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ ، قَالَ : فَبعَثَ أَبا عُبيْدةَ بنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حقدار ہوگا یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23377
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 4381، م: 2420