حدیث نمبر: 23372
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي بعْضُ أَصْحَابنَا ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ أَخَذُوهُ وَأَباهُ ، فَأَخَذُوا عَلَيْهِمْ أَنْ : لَا يُقَاتِلُوهُمْ يَوْمَ بدْرٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَوَالِهِمْ ، وَنَسْتَعِينُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ " .
مولانا ظفر اقبال

ہمیں کفار قریش نے پکڑ لیا اور کہنے لگے کہ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا رہے ہو ؟ ہم نے کہا کہ ہمارا ارادہ تو صرف مدینہ منورہ جانے کا ہے انہوں نے ہم سے یہ وعدہ اور مضبوط عہد لیا کہ ہم مدینہ جا کر لڑائی میں ان کا ساتھ نہیں دیں گے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور ساری بات بتادی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاؤ ہم ان کا وعدہ وفا کریں گے اور ان کے خلاف اللہ سے مدد مانگیں گے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23372
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لابهام الراوي عن حذيفة