حدیث نمبر: 23328
حَدَّثَنَا أَبو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، حَدَّثَنَا السَّفْرُ بنُ نُسَيْرٍ الْأَزْدِيُّ ، وَغَيْرُهُ , عَنْ حُذَيْفَةَ بنِ الْيَمَانِ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا فِي شَرٍّ ، فَذَهَب اللَّهُ بذَلِكَ الشَّرِّ ، وَجَاءَ بالْخَيْرِ عَلَى يَدَيْكَ ، فَهَلْ بعْدَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، قَالَ : مَا هُوَ ؟ قَالَ : " فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ ، يَتْبعُ بعْضُهَا بعْضًا ، تَأْتِيكُمْ مُشْتَبهَةً كَوُجُوهِ الْبقَرِ ، لَا تَدْرُونَ أَيًّا مِنْ أَيٍّ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم لوگ شر میں تھے اللہ نے آپ کے ذریعے اسے دور فرما دیا اور آپ کے ہاتھوں خیر کا دور دورہ فرما دیا کیا اس خیر کے بعد بھی شر ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! انہوں نے پوچھا کہ وہ کیسا ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاریک رات کے حصوں کی طرح فتنے رونما ہوں گے جو پے درپے آئیں گے اور تم پر اس طرح اشتباہ ہوجائے گا جیسے گائے کے چہرے ہوتے ہیں اور تم ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ معلوم نہیں کرسکو گے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23328
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف السفر بن نسير، ثم هو لم يدرك حذيفة