حدیث نمبر: 23306
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَبي بكَيْرٍ , حَدَّثَنَا عُبيْدُ اللَّهِ بنُ إِيَادِ بنِ لَقِيطٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبي يَذْكُرُ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ ، فَقَالَ : " عِلْمُهَا عِنْدَ رَبي ، لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ، وَلَكِنْ أُخْبرُكُمْ بمَشَارِيطِهَا وَمَا يَكُونُ بيْنَ يَدَيْهَا ، إِنَّ بيْنَ يَدَيْهَا فِتْنَةً وَهَرْجًا " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْفِتْنَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا ، فَالْهَرْجُ مَا هُوَ ؟ قَالَ : " بلِسَانِ الْحَبشَةِ : الْقَتْلُ ، وَيُلْقَى بيْنَ النَّاسِ التَّنَاكُرُ ، فَلَا يَكَادُ أَحَدٌ أَنْ يَعْرِفَ أَحَدًا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت کے متعلق پوچھا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہے وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کرے گا البتہ میں تمہیں اس کی کچھ علامات بتائے دیتا ہوں اور یہ کہ اس سے پہلے کیا ہوگا ؟ قیامت سے پہلے فتنے ہوں گے اور " ہرج " ہوگا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فتنہ کا معنی تو ہم سمجھ گئے ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اہل حبش کی زبان میں اس کا معنی قتل ہوتا ہے اور لوگوں میں اجنبیت پیدا ہوجائے گی اور کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23306
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، إياد بن لقيط لم يدرك حذيفة