حدیث نمبر: 23266
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ يَعْنِي ابنَ صُهَيْب ، عَنْ مُوسَى بنِ أَبي الْمُخْتَارِ ، عَنْ بلَالٍ الْعَبسِيِّ ، قَالَ : قَالَ حُذَيْفَةُ : " مَا أَخْبيَةٌ بعْدَ أَخْبيَةٍ كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ببدْرٍ يُدْفَعُ عَنْهُمْ ، مَا يُدْفَعُ عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبيَةِ ، وَلَا يُرِيدُ بهِمْ قَوْمٌ سُوءًا إِلَّا أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ عَنْهُمْ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان خیموں کے بعد کوئی خیمے نہ رہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں تھے اور جس طرح ان کا دفاع ہوا کسی اور کا دفاع نہ ہوسکا اور جب بھی کوئی قوم ان کے ساتھ برا ارادہ کرتی تو کوئی نہ کوئی چیز انہیں اپنی طرف مشغول کرلیتی تھی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23266
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: أثر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة موسي بن أبى المختار، وقد توبع، وفي سماع بلال العبسي من حذيفة كلام