حدیث نمبر: 23184
حَدَّثَنَا أَبو عَبدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابنَ أَبي أَيُّوب ، حَدَّثَنِي بكْرُ بنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ هُبيْرَةَ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ جُبيْرٍ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ سِنِينَ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُرِّب لَهُ طَعَامٌ يَقُولُ : " بسْمِ اللَّهِ " ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ ، قَالَ : " اللهم أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ ، وَأَغْنَيْتَ وَأَقْنَيْتَ ، وَهَدَيْتَ وَاجْتَبيْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ " .
مولانا ظفر اقبال

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک خادم " جنہوں نے آٹھ سال تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی " سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب کھانے کو پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ کہہ کر شروع فرماتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعاء پڑھتے کہ اے اللہ ! تو نے کھلایا پلایا، غناء اور روزی عطاء فرمائی تو نے ہدایت اور زندگانی عطاء فرمائی تیری بخششوں پر تیری تعریف ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23184
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح