حدیث نمبر: 23101
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبةُ ، حَدَّثَنِي سَلْمٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبدَ اللَّهِ بنَ أَبي الْهُذَيْلِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَاحِب لِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ " ، قَالَ : فَحَدَّثَنِي صَاحِبي : أَنَّهُ انْطَلَقَ مَعَ عُمَرَ بنِ الْخَطَّاب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْلُكَ : " تَبا لِلذَّهَب وَالْفِضَّةِ " مَاذَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لِسَانًا ذَاكِرًا ، وَقَلْبا شَاكِرًا ، وَزَوْجَةً تُعِينُ عَلَى الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے جو یہ فرمایا ہے کہ سونے چاندی کے لئے ہلاکت ہے تو پھر انسان کے پاس کیا ہو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل اور آخرت کے کاموں میں تعاون کرنے والی بیوی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23101
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف من أجل سلم بن عطية