حدیث نمبر: 23099
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبرَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بنِ أَبي النَّجُودِ ، عَنْ جُرَيٍّ ، قَالَ : الْتَقَى رَجُلَانِ مِنْ بنِي سُلَيْمٍ مِنْ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبهِ : سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " سُبحَانَ اللَّهِ نِصْفُ الْمِيزَانِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ يَمْلَؤُهُ ، وَاللَّهُ أَكْبرُ يَمْلَأُ مَا بيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبرِ ، وَالْوُضُوءُ نِصْفُ الْإِيمَانِ " .
مولانا ظفر اقبال

بنوسلیم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ " سبحان اللہ " نصف میزان عمل کے برابر ہے " الحمدللہ " میزان عمل کو بھر دے گا " اللہ اکبر " کا لفظ زمین و آسمان کے درمیان ساری فضاء کو بھر دیتا ہے صفائی نصف ایمان ہے اور روزہ نصف صبر ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23099
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وللتحقيق انظر: 18287