حدیث نمبر: 23064
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عَبدِ الرَّحْمَنِ بنِ أَبي لَيْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ، فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، فَانْطَلَقَ بعْضُهُمْ إِلَى نَبلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهَا ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ ، فَزِعَ ، فَضَحِكَ الْقَوْمُ ، فَقَالَ : " مَا يُضْحِكُكُمْ ؟ " ، فَقَالُوا : لَا ، إِلَّا أَنَّا أَخَذْنَا نَبلَ هَذَا ، فَفَزِعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا " .
مولانا ظفر اقبال

ابن ابی لیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمیں کئی صحابہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر پر جا رہے تھے ان میں سے ایک آدمی سو گیا ایک آدمی چپکے سے اس کی طرف بڑھا اور اس کا تیر اٹھا لیاجب وہ آدمی اپنی نیند سے بیدار ہوا تو وہ خوفزدہ ہوگیا لوگ اس کی اس کیفیت پر ہنسنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے ان کے ہنسنے کی وجہ پوچھی لوگوں نے کہا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بس ہم نے اس کا تیر لے لیا تھا جس پر یہ خوفزدہ ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23064
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح