حدیث نمبر: 23034
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ وَهُوَ أَبو تُمَيْلَةَ , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ : رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَب ، فَقَالَ : " مَا لَكَ وَلِحُلِيِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " , قَالَ : فَجَاءَ وَقَدْ لَبسَ خَاتَمًا مِنْ صُفْرٍ ، فَقَالَ : " أَجِدُ مِعكَ رِيحَ أَهْلِ الْأَصْنَامِ " ، قَالَ : فَمِمَّ أَتَّخِذُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " مِنْ فِضَّةٍ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس سے فرمایا کہ تم اہل جنت کا زیور دنیا میں کیوں پہنے ہو ؟ اگلی مرتبہ وہ آیا تو اس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تم سے بتوں کے بچاریوں جیسی بو آتی ہے " اس نے پوچھا یا رسول اللہ ! پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بناؤں ؟ فرمایا چاندی کی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 23034
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: فجاء وقد لبس خاتما من صفر، فقال النبى ﷺ: "أجد معك ريح اهل الاصنام"، وهذا اسناد حسن فى المتابعات والشواهد من اجل عبدالله بن مسلم