حدیث نمبر: 22886
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ ، قَالَ خَالِدٌ : أَحْسِبُهُ عَمْرَو بْنَ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ دُورِ الْأَنْصَارِ ، فَوَجَدَ قُتَارًا ، فَقَالَ : " مَنْ صَنَعَ هَذَا ؟ أَوْ كَمَا قَالَ شَكَّ إِسْمَاعِيلُ ، فَخَرَجَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ كَرِيهٌ ، وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي , قَالَ : " فَأَعِدْ " , قَالَ : وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلَّا جَذَعٌ أَوْ حَمَلٌ مِنَ الضَّأْنِ , قَالَ : " فَاذْبَحْهُ ، وَلَا يُجْزِئُ جَذَعٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ " , حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِ دِيَارِنَا ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابو زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (عیدالاضحی کے دن) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھروں کے درمیان سے گذر رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت بھونے جانے کی خوشبو محسوس ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کس نے جانور ذبح کیا ہے ؟ ہم میں سے ایک آدمی نکلا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اس دن کھانا ایک مجبوری ہوتا ہے سو میں نے اپنا جانور ذبح کرلیا تاکہ خود بھی کھاؤں اور اپنے ہمسایوں کو بھی کھلاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قربانی دوبارہ کرو اس نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں میرے پاس تو بکری کا ایک چھ ماہ کا بچہ ہے یا حمل ہے اس نے یہ جملہ تین مرتبہ کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اسی کو ذبح کرلو لیکن تمہارے بعد یہ کسی کی طرف کفایت نہیں کرسکے گا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22886
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قوله: أو حمل من الضأن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عمرو بن بجدان، وقد اختلف فيه على خالد