حدیث نمبر: 22729
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ , وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَقَدْ كَانَ يُدْعَى ابْنَ هُرْمُزَ , قَالَ : جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ إِمَّا فِي كَنِيسَةٍ وَإِمَّا فِي بِيعَةٍ ، فَقَامَ عُبَادَةُ ، فَقَالَ : " نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ ، وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ ، وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ ، وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ ، وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ ، وَقَالَ : أَحَدُهُمَا وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ ، وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ ، وَقَالَ : أَحَدُهُمَا مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى ، وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ , وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ ، وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ ، يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا " .
مولانا ظفر اقبال

ایک مرتبہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کسی گرجے یا عبادت خانے میں جمع ہوئے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی سونے کے بدلے چاندی کی چاندی کے بدلے، کجھور کی کجھور کے بدلے، گندم کی گندم کے بدلے، جو کی جو کے بدلے اور نمک کے بدلے نمک کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ الاّ یہ کہ وہ برابر برابر ہو جو شخص اضافہ کرے یا اضافہ کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔ البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چیز کی اجازت دی ہے کہ سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی کو سونے کے بدلے گندم کو جو کے بدلے اور جو کو گندم کے بدلے ہاتھوں ہاتھ بیچ سکتے ہیں جیسے چاہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22729
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن عبيد مجهول، ومسلم بن يسار لم يسمع هذا الحديث من عبادة