حدیث نمبر: 227
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنِي سَيَّارٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ : أَنَّ رَجُلًا كَانَ نَصْرَانِيًّا يُقَالُ لَهُ : الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، أسلم ، فأراد الجهاد ، فقيل له : ابْدَأْ بِالْحَجِّ ، فَأَتَى الْأَشْعَرِيَّ ، فَأَمَرَهُ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا ، فَفَعَلَ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُلَبِّي ، إِذْ مَرَّ يَزِيدُ بْنُ صُوحَانَ ، وَسَلْمَانُ بْنُ رَبِيعَةَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : لَهَذَا أَضَلُّ مِنْ بَعِيرِ أَهْلِهِ ، فَسَمِعَهَا الصُّبَيُّ ، فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا قَدِمَ أَتَى عُمَرَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ ، قَالَ : وَسَمِعْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى يَقُولُ : وُفِّقْتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابووائل کہتے ہیں کہ صبی بن معبد ایک عیسائی آدمی تھے جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ، انہوں نے جہاد کا ارادہ کر لیا ، اسی اثناء میں کسی نے کہا: آپ پہلے حج کر لیں ، پھر جہاد میں شرکت کریں ۔ چنانچہ وہ اشعری کے پاس آئے ، انہوں نے صبی کو حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھ لینے کا حکم دیا ، انہوں نے ایسا ہی کیا ، وہ یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے ، زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے پاس سے گزرے تو ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ یہ شخص اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے ، صبی نے یہ بات سن لی اور ان پر بہت بوجھ بنی ، جب وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو زید اور سلمان نے جو کہا تھا ، اس کے متعلق ان کی خدمت میں عرض کیا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ آپ کو اپنے پیغمبر کی سنت پر رہنمائی نصیب ہو گئی ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 227
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح