حدیث نمبر: 22621
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ لَهُ رَجُلٌ : أَرَأَيْتَ صِيَامَ عَرَفَةَ ؟ قَالَ : " أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ , قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ صَوْمَ عَاشُورَاءَ ؟ قَالَ : أَحْتَسِبُ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يُكَفِّرَ السَّنَةَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا مجھے بارگاہ الٰہی سے امید ہے کہ اس سے گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22621
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1162