حدیث نمبر: 22514
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ، عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ ، فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ أَتَانِي رَجُلٌ يَأْخُذُ مَالِي ؟ قَالَ : " تُذَكِّرُهُ بِاللَّهِ تَعَالَى , قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ ذَكَّرْتُهُ بِاللَّهِ , قَالَ : فَإِنْ فَعَلْتُ فَلَمْ يَنْتَهِ ، قَالَ : تَسْتَعِينُ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ , قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ مِنِّي نَائِيًا ؟ قَالَ : تَسْتَعِينُ بِالْمُسْلِمِينَ , قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ يَحْضُرْنِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَعَجِلَ عَلَيَّ ، قَالَ : فَقَاتِلْ حَتَّى تَحْرُزَ مَالَكَ ، أَوْ تُقْتَلَ فَتَكُونَ فِي شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت مخارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یہ بتائیے کہ اگر کوئی آدمی میرے یہاں چوری کرنے یا میرا مال چھیننے کی نیت سے میرے پاس آئے تو آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے سامنے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اہمیت واضح کرو، اس نے کہا کہ اگر میں ایسا کرتا ہوں لیکن وہ اپنے ارادے سے پھر بھی باز نہیں آتا تو کیا کروں ؟ فرمایا بادشاہ سے اس کے خلاف مدد حاصل کرو، اس نے پوچھا کہ اگر میرے پاس کوئی اور مسلمان نہ ہو ( اور وہ مجھ پر فوراً حملہ کر دے) تو کیا کروں ؟ فرمایا پھر تم بھی اس سے لڑو یہاں تک کہ تم شہداء آخرت میں لکھے جاؤ یا اپنے مال کو بچالو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22514
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث حسن إن كان متصلا، ففي صحبة مخارق خلاف، وهذا إسناد ضعيف، سليمان بن قرم ضعيف، لكنه توبع