حدیث نمبر: 22476
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ , أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الَّذِينَ إِنْ يُلْقَوْا فِي الصَّفِّ يَلْفِتُونَ وُجُوهَهُمْ حَتَّى يُقْتَلُوا ، أُولَئِكَ يَنْطَلِقُونَ فِي الْغُرَفِ الْعُلَى مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ ، وَإِذَا ضَحِكَ رَبُّكَ إِلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا ، فَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت نعیم بن ھمار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا شہید سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اگر میدان جنگ میں دشمن کے سامنے پہنچ جائیں تو اس وقت تک اپنا رخ نہیں پھیرتے جب تک شہید نہیں ہوجاتے یہ لوگ جنت کے بالاخانوں میں قیام پذیر ہوں گے اور ان کا رب انہیں دیکھ کر مسکراتا ہے اور جب تمہارا رب دنیا میں کسی بندے کو دیکھ کر مسکرانے لگے تو سمجھ لو کہ اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوگا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22476
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث قوي، إسماعيل صدوق فى رواياته عن أهل بلده، وهذا منها، لكن سقط منه قيس الجذامي بين كثير بن مرة وبين نعيم بن همار وقيس صحابي