حدیث نمبر: 22459
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ فَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ " , قَالَ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : سَقْيُ الْمَاءِ " , قَالَ : فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کی والدہ فوت ہوئیں تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! میری والدہ فوت ہوگئی ہیں کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ! انہوں نے پوچھا کہ پھر کون سا صدقہ سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پلانا، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں آل سعد کے پانی پلانے کی اصل وجہ یہی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22459
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده منقطع، الحسن لم يدرك سعدا