حدیث نمبر: 22457
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ , أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَخْبِرْنَا عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَاذَا فِيهِ مِنَ الْخَيْرِ ؟ قَالَ : " فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ : فِيهِ خُلِقَ آدَمُ ، وَفِيهِ هَبَطَ آدَمُ ، وَفِيهِ تُوُفِّيَ آدَمُ ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ اللَّهَ عَبْدٌ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ مَأْثَمًا أَوْ قَطِيعَةَ رَحِمٍ ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ ، مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا حَجَرٍ ، إِلَّا وَهُوَ يُشْفِقُ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جمعہ کے دن کے حوالے سے ہمیں یہ بتائیے کہ اس میں کیا خیر رکھی گئی ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے متعلق پانچ اہم باتیں ہیں اسی دن حضرت آدم کی تخلیق ہوئی اسی دن حضرت آدم علیہ السلام جنت سے اتارے گئے اسی دن اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کی روح قبض کی، اس دن میں ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے جس میں بندہ اللہ سے جو بھی مانگتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے بشرطیکہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعاء نہ کرے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی کوئی مقرب فرشتہ زمین و آسمان پہاڑ اور پتھر ایسا نہیں ہے جو جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22457
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن محمد مختلف فيه، وهو إلى الضعف أقرب، وعمرو بن شرحبيل وأبوه مجهولان