حدیث نمبر: 22392
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ ابْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : لَمَّا أُنْزِلَتْ الَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة التوبة آية 34 , قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : قَدْ نَزَلَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ مَا نَزَلَ ، فَلَوْ أَنَّا عَلِمْنَا أَيُّ الْمَالِ خَيْرٌ اتَّخَذْنَاهُ فَقَالَ : " أَفْضَلُهُ لِسَانًا ذَاكِرًا ، وَقَلْبًا شَاكِرًا ، وَزَوْجَةً مُؤْمِنَةً تُعِينُهُ عَلَى إِيمَانِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہیں کرتے۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں شریک تھے تو کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ سونا اور چاندی کے متعلق تو جو حکم نازل ہونا تھا وہ ہوگیا اب اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ کون سامال بہتر ہے تو ہم وہی اپنے پاس رکھ لیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے افضل مال ذکر کرنے والی زبان شکر گذار دل اور مسلمان بیوی ہے جو اس کے ایمان پر اس کی مدد کرنے والی ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22392
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، سالم لم يسمع من ثوبان