حدیث نمبر: 22344
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ إِنِّي أَتَأَخَّرُ عَنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مِنْ أَجْلِ فُلَانٍ مِمَّا يُطِيلُ بِنَا ، فَمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ غَضَبًا فِي مَوْعِظَةٍ مِنْهُ يَوْمَئِذٍ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مِنْكُمْ لَمُنَفِّرِينَ ، فَأَيُّكُمْ مَا صَلَّى بِالنَّاسِ فَلْيَتَجَوَّزْ ، فَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں سمجھتا ہوں کہ فلاں آدمی (اپنے امام کے خوف سے، میں فجر کی نماز میں رہ جاؤں گا کیونکہ وہ ہمیں بہت لمبی نماز پڑھاتا ہے راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس دن سے زیادہ دوران وعظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی غضب ناک نہیں دیکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! تم میں سے بعض افراد دوسرے لوگوں کو متنفر کردیتے ہیں تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے چاہئے کہ ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ نمازیوں میں کمزور، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22344
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 6110، م: 466