حدیث نمبر: 22313
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا عُمَارَةُ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ , حَدَّثَنِي أَبُو غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِتِسْعٍ , حَتَّى إِذَا بَدَّنَ وَكَثُرَ لَحْمُهُ , أَوْتَرَ بِسَبْعٍ , وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , فَقَرَأَ بِ إِذَا زُلْزِلَتْ و َقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں نو رکعت وتر پڑھتے تھے بعد میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن مبارک بھاری ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے بعد بیٹھ کردو رکعتیں پڑھتے تھے اور ان میں سورت زلزال اور سورت کافروں کی تلاوت فرماتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22313
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون تعيين قراءة النبىﷺ فى الركعتين بعد الوتر، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب وعمارة بن زاذان