حدیث نمبر: 22286
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ شَدَّادٌ , حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ , أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ : إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَأَعْرَضَ عَنْهُ , وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَامَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ , فَقَالَ : " هَلْ تَوَضَّأْتَ حِينَ أَقْبَلْتَ ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , فَقَالَ : " هَلْ صَلَّيْتَ مَعَنَا حِينَ صَلَّيْنَا ؟ " , قَالَ : نَعَمْ , قَالَ : " اذْهَبْ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ عَفَا عَنْكَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! مجھ سے گناہ سرزد ہوگیا ہے لہٰذا مجھے کتاب اللہ کی روشنی میں سزا دے دیجئے اسی دوران نماز کھڑی ہوگئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور فراغت کے بعد جب واپس جانے لگے تو وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے چلا گیا میں بھی اس کے پیچھے چلا گیا، اس نے پھر اپنی بات دہرائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کیا ایسا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ نے تمہارا گناہ معاف کردیا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22286
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح