حدیث نمبر: 2225
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَزِيدَ الرَّقِّيُّ أَبُو يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا فُرَاتٌ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو جَهْلٍ : لَئِنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عِنْدَ الْكَعْبَةِ ، لَآتِيَنَّهُ حَتَّى أَطَأَ عَلَى عُنُقِهِ , قَالَ : فَقَالَ : " لَوْ فَعَلَ , لَأَخَذَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا ، وَلَوْ أَنَّ الْيَهُودَ تَمَنَّوْا الْمَوْتَ ، لَمَاتُوا ، وَرَأَوْا مَقَاعِدَهُمْ فِي النَّارِ ، وَلَوْ خَرَجَ الَّذِينَ يُبَاهِلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَرَجَعُوا لَا يَجِدُونَ مَالًا وَلَا أَهْلًا " .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ابوجہل کہنے لگا: اگر میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خانہ کعبہ کے قریب نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کے پاس پہنچ کر ان کی گردن مسل دوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”اگر وہ ایسا کرنے کے لئے آگے بڑھتا تو فرشتے سب کی نگاہوں کے سامنے اسے پکڑ لیتے، اگر یہودی موت کی تمنا کر لیتے تو مر جاتے اور انہیں جہنم میں ان کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا، اور اگر وہ لوگ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے لئے آئے تھے، باہر نکلتے تو اپنے گھر اس حال میں لوٹ کر جاتے کہ اپنے مال و دولت اور اہل خانہ میں سے کسی کو نہ پاتے۔“

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2225
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح، إسماعيل بن يزيد فيه جهالة، لكنه توبع