حدیث نمبر: 22215
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ , مِثْلُ الْحَيَّيْنِ , أَوْ مِثْلُ أَحَدِ الْحَيَّيْنِ : رَبِيعَةَ , وَمُضَرَ " , فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أوَ مَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ ؟ فَقَالَ : " إِنَّمَا أَقُولُ مَا أُقَوَّلُ " . .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف ایک آدمی کی شفاعت کی برکت سے " جو نبی نہیں ہوگا " ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلوں یا ایک قبیلے کے برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ربیعہ، مضر قبیلے کا حصہ نہیں ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تو وہی کہتا ہوں جو کہنا ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22215
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح بطرقه وشواهده دون قوله: فقال رجل: يارسول الله.... فهي زيادة شاذة