حدیث نمبر: 22203
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ حُسَيْنٍ الْخُرَاسَانِيِّ , عَنْ أَبِي غَالِبٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : اسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا , فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا أَضْحَكَكَ ؟ قَالَ : " قَوْمٌ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ مُقَرَّنِينَ فِي السَّلَاسِلِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کس وجہ سے مسکرا رہے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے تعجب ہوتا ہے اس قوم پر جسے زنجیروں میں جکڑ کر جنت کی طرف لے جایا جاتا ہے (ان کے اعمال انہیں جہنم کی طرف لے جا رہے ہوتے ہیں لیکن اللہ کی نظر کرم انہیں جنت کی طرف لے جا رہی ہوتی ہے)

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22203
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل أبى غالب