حدیث نمبر: 22199
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ , عَنْ جَدِّهِ مَمْطُورٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ , قَالَ : قَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا الْإِيمَانُ ؟ قَالَ : " إِذَا سَرَّتْكَ حَسَنَتُكَ , وَسَاءَتْكَ سَيِّئَتُكَ , فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ " , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَا الْإِثْمُ ؟ قَالَ : " إِذَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ , فَدَعْهُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ایمان کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں اپنی برائی سے غم اور نیکی سے خوشی ہو تو تم مؤمن ہو گناہ کیا ہوتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے تو اسے چھوڑ دو ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22199
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وفي سماع يحيى من زيد بن سلام خلاف