حدیث نمبر: 2216
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، قَالَ : قال دَاوُدُ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ " فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ ، قَالَ : فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي , قَالَ : الْخَبِيثُ ، يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ ! وَاللَّهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا .
مولانا ظفر اقبال

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن کے پاس فدیہ دینے کے لئے کچھ بھی موجود نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا فدیہ اس طرح مقرر فرمایا کہ وہ انصاری بچوں کو کتابت سکھا دیں، ایک دن ایک بچہ اپنے باپ کے پاس روتا ہوا آیا، باپ نے پوچھا کہ کیا ہوا؟ اس نے کہا کہ استاد نے مارا ہے، وہ کہنے لگا کہ خبیث! بدر کا انتقام لینا چاہتا ہے، آئندہ تم کبھی اس کے پاس نہیں جاؤ گے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / ومن مسند بني هاشم / حدیث: 2216
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حسن، على بن عاصم فيه ضعف، لكنه متابع