حدیث نمبر: 22110
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ , قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذًا , يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ , وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ , عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ , وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ مُخْلِصًا , أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ شَهِيدٍ , وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ , وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگ جاتی ہے۔ جو شخص اپنے متعلق اللہ سے صدق دل کے ساتھ شہادت کی دعاء کرے اور پھر طبعی موت پا کر دنیا سے رخصت ہو تو اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22110
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن