حدیث نمبر: 22052
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ , حَدَّثَنِي رَاشِدُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ حُمَيْدٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : لَمَّا بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ , خَرَجَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِيهِ , وَمُعَاذٌ رَاكِبٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي تَحْتَ رَاحِلَتِهِ , فَلَمَّا فَرَغَ , قَالَ : " يَا مُعَاذُ , إِنَّكَ عَسَى أَنْ لَا تَلْقَانِي بَعْدَ عَامِي هَذَا , أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَمُرَّ بِمَسْجِدِي هَذَا , أَوْ قَبْرِي " , فَبَكَى مُعَاذٌ جَشَعًا لِفِرَاقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ الْتَفَتَ فَأَقْبَلَ بِوَجْهِهِ نَحْوَ الْمَدِينَةِ , فَقَالَ : " إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِي الْمُتَّقُونَ , مَنْ كَانُوا وَحَيْثُ كَانُوا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن روانہ فرمایا تو خود انہیں چھوڑنے کے لئے نکلے راستہ بھر انہیں وصیت فرماتے رہے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ پیدل چل رہے تھے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وصیتیں کر کے فارغ ہوئے تو فرمایا معاذ ! ہوسکتا ہے کہ آئندہ سال تم مجھ سے نہ مل سکو یا ہوسکتا ہے کہ آئندہ سال تم میری مسجد اور میری قبر پر سے گذرو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کے غم میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ رونے لگے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنارخ پھیر کر مدینہ منورہ کی جانب کرلیا اور فرمایا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب متقی ہیں خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22052
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح