حدیث نمبر: 22040
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا : حدثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ : أَخبرنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ , قَالَ الْحَسَنُ : الْهُذَلِيِّ , عَنْ رَوْحِ بْنِ عَابِدٍ , عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ , فَقَالَ : " يَا مُعَاذُ " , قُلْتُ : لَبَّيْكَ , قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ " , قَالَ : فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَهَا ثَلَاثًا , فَقُلْتُ ذَلِكَ ثَلَاثًا , ثُمَّ قَالَ : " حَقُّهُ عَزَّ وَجَلَّ , أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " , ثُمَّ قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ " , فَقُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَهَا ثَلَاثًا , وَقُلْتُ ذَلِكَ ثَلَاثًا , فَقَالَ : " حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَأَنْ يُدْخِلَهُمْ الْجَنَّةَ " ..
مولانا ظفر اقبال

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں سرخ گدھے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تین مرتبہ یہ سوال جواب ہوئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل فرما دے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22040
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف لجهالة روح وأبي العوام، وضعف على بن زيد