حدیث نمبر: 22017
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي الْوَرْدِ يَعْنِي ابْنَ ثُمَامَةَ . ح وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أخبرَنَا الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ , جَمِيعًا عَنِ اللَّجْلَاجِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ , وَهُوَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ , فَقَالَ : " قَدْ سَأَلْتَ الْبَلَاءَ فَسَلْ اللَّهَ الْعَافِيَةَ " , قال : ومر برجل يقول : يا ذا الجلال والإكرامِ , قال : " قد أستُجيبَ لك فسَل " , قَالَ : وَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقُولُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ , قَالَ : " يَا ابْنَ آدَمَ أَتَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ ؟ " , قَالَ : دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ , قَالَ : " فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ , وَدُخُولُ الْجَنَّةِ " , قَالَ أَبِي : لَوْ لَمْ يَرْوِ الْجُرَيْرِيُّ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ.
مولانا ظفر اقبال

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو اللہ سے مصیبت کی دعاء مانگ رہے ہو اللہ سے عافیت مانگا کرو (پھر ایک آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ " یاذا الجلال والا کر ام " کہہ کر دعاء کر رہا تھا، اس سے فرمایا کہ تمہاری دعاء قبول ہوگی اس لئے مانگو) ایک اور آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ ! میں تجھ سے تمام نعمت کی درخواست کرتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن آدم ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ " تمام نعمت " سے کیا مراد ہے ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ دعاء جو میں نے مانگی تھی اس کی خیر کا امیدوار ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام نعمت یہ ہے کہ انسان جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 22017
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن