حدیث نمبر: 21994
حدثناه عبدُ الرحمن , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ : حدثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ ؟ " , قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ : " أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا " , قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا يُعَذِّبَهُمْ " , قَالَ مَعْمَرٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : " دَعْهُمْ يَعْمَلُوا " . .
مولانا ظفر اقبال

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے ؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21994
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30