حدیث نمبر: 21971
حدثنا عبد الله , حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ صُبَيْحٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْهُلْبِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى , فَقَالَ : " لَا يَحِيكَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ " , قَالَ : وَرَأَيْتُهُ يَضَعُ إِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى . قَالَ : " وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ مَرَّةً عَنْ يَمِينِهِ , وَمَرَّةً عَنْ شِمَالِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ھلب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کھانے کی بعض چیزیں ایسی ہیں جن سے مجھے گھن آتی ہے اور میں اس میں حرج محسوس کرتا ہوں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے دل میں اس طرح کے وساوس پیدا نہ ہوں جن میں نصرانیت مبتلا رہی اور تم بھی انہیں کی طرح شک کرنے لگو۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہاتھ دوسرے پر رکھے ہوئے دیکھا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں جانب سے واپس جاتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور بائیں جانب سے بھی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21971
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره دون قصة مضارعة طعام النصرانية، وهذا إسناد ضعيف لجهالة قبيصة