حدیث نمبر: 21925
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , أخبرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أخبرَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَكُلَّمَا أَعْيَا بَعْضُ الْقَوْمِ أَلْقَى عَلَيَّ سَيْفَهُ , وَتُرْسَهُ , وَرُمْحَهُ , حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ سَفِينَةُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے جب کوئی آدمی تھک جاتا تو وہ اپنی تلوار، ڈھال اور نیزہ مجھے پکڑا دیتا، اس طرح میں نے بہت ساری چیزیں اٹھالیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21925
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده حسن