حدیث نمبر: 21898
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ , قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا بِأَرْضٍ تُصِيبُنَا بِهَا مَخْمَصَةٌ , فَمَا يَحِلُّ لَنَا مِنَ الْمَيْتَةِ ؟ قَالَ : " إِذَا لَمْ تَصْطَبِحُوا , وَلَمْ تَغْتَبِقُوا , وَلَمْ تَحْتَفِئُوا بَقْلًا , فَشَأْنُكُمْ بِهَا " .مولانا ظفر اقبال
حضرت ابو واقد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں ہمیں اضطراری حالت پیش آتی رہتی ہے تو ہمارے لئے مردار میں سے کتنا حلال ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں صبح اور شام کسی بھی وقت کوئی بھی سبزی توڑنے کو نہ ملے تو تمہیں اس کی اجازت ہے۔