حدیث نمبر: 21849
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنَا كُرْدُوسٌ , عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ , أَنَّ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ , وَرَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ , فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي اغْتَصَبَهَا هَذَا وَأَبُوهُ , فَقَالَ الْكِنْدِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرْضِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي ! فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَحْلِفْهُ أَنَّهُ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي وَأَرْضُ وَالِدِي , وَالَّذِي اغْتَصَبَهَا أَبُوهُ , فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ لَا يَقْتَطِعُ عَبْدٌ أَوْ رَجُلٌ بِيَمِينِهِ مَالًا , إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ أَجْذَمُ " , فَقَالَ الْكِنْدِيُّ : هِيَ أَرْضُهُ وَأَرْضُ وَالِدِهِ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت اشعث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ کندہ اور حضرموت کا ایک آدمی یمن کی ایک زمین کے بارے میں اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرمی کہنے لگا یا رسول اللہ ! اس نے اور اس کے باپ نے مل کر میری زمین غصب کرلی ہے کندی کہنے لگا یا رسول اللہ ! وہ میری زمین ہے جو مجھے وراثت میں اپنے باپ سے ملی ہے، حضرمی کہنے لگا یا رسول اللہ ! اس سے اس بات پر قسم لے لیجئے کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ یہ میری اور میرے والد کی زمین ہے جسے اس کے باپ نے غصب کیا تھا، کندی قسم کھانے کے لئے تیار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کوئی مال حاصل کرتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہ جذام میں مبتلا ہوگا یہ سن کر کندی کہنے لگا کہ یہ زمین اسی کی ہے اور اس کے والد کی ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21849
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف بهذه السياقة، كردوس قد اختلف فيه، وقد انفرد كردوس بهذا اللفظ