حدیث نمبر: 21794
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , قَالَ : قِيلَ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يُؤْتَى بِالرَّجُلِ الَّذِي كَانَ يُطَاعُ فِي مَعَاصِي اللَّهِ تَعَالَى , فَيُقْذَفُ فِي النَّارِ , فَتَنْدَلِقُ بِهِ أَقْتَابُهُ , فَيَسْتَدِيرُ فِيهَا كَمَا يَسْتَدِيرُ الْحِمَارُ فِي الرَّحَا , فَيَأْتِي عَلَيْهِ أَهْلُ طَاعَتِهِ مِنَ النَّاسِ , فَيَقُولُونَ : أَيْ فُلَ , أَيْنَ مَا كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِهِ ؟ فَيَقُولُ : إِنِّي كُنْتُ آمُرُكُمْ بِأَمْرٍ , وَأُخَالِفُكُمْ إِلَى غَيْرِهِ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا جس سے اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ انہیں لے کر اس طرح گھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے یہ دیکھ کر تمام جہنمی اس کے پاس جمع ہوں گے اور اس سے کہیں گے کہ اے فلاں ! تجھ پر کیا مصیبت آئی ؟ کیا تو ہمیں نیکی کا حکم اور برائی سے رکنے کی تلقین نہیں کرتا تھا ؟ وہ جواب دے گا کہ میں تمہیں تو نیکی کرنے کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور تمہیں گناہوں سے روکتا تھا اور خود کرتا تھا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21794
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 3267، م: 2989، وهذا إسناد حسن