حدیث نمبر: 21700
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمًا أَبُو الدَّرْدَاءِ مُغْضَبًا , فَقَالَتْ : مَا لَكَ ؟ فقَال : " وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُ فِيهِمْ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَّهُمْ يُصَلُّونَ جَمِيعًا " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ام درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے تو نہایت غصے کی حالت میں تھے انہوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ بخدا ! میں لوگوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی تعلیم نہیں دیکھ رہا، اب تو صرف اتنی بات رہ گئی ہے کہ وہ اکٹھے ہو کر نماز پڑھ لیتے ہیں۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21700
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 650