حدیث نمبر: 21559
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ وُلَاةٍ يَسْتَأْثِرُونَ عَلَيْكَ بِهَذَا الْفَيْءِ ؟ ! قَالَ : قلت : إذا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي ، فَأَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْحَقَكَ ، قَالَ : " أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٍ لَكَ مِنْ ذَلِكَ ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب میرے بعد آنے والے حکمران اس مال غنیمت میں تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے ؟ میں نے عرض کیا کہ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور ان سے اتنا لڑوں گا کہ آپ سے آملوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر راستہ نہ دکھاؤں ؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21559
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لجهالة خالد بن وهبان