حدیث نمبر: 21507
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِبِلَالٍ : " أَنْتَ يَا بِلَالُ تُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ ، فَلَيْسَ ذَلِكَ بِالصُّبْحِ ، إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا " ثُمَّ دَعَا بِسَحُورِهِ فَتَسَحَّرَ ، وَكَانَ يَقُولُ : " لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا أَخَّرُوا السَّحُورَ ، وَعَجَّلُوا الْفِطْرَ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال ! تم اس وقت اذان دیتے ہو جب آسمان پر طلوع فجر ہوجاتی ہے حالانکہ اصل صبح صادق وہ نہیں ہوتی صبح صادق تو چوڑائی کی حالت میں نمودار ہوتی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری منگوا کر اسے تناول فرمایا : اور فرماتے تھے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ سحری میں تاخیر اور افطاری میں تعجیل کرتی رہے گی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21507
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف، وسليمان وعدي مجهولان