حدیث نمبر: 21427
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَشْيَاءَ يُؤْجَرُ فِيهَا الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ لِي غَشَيَانَ أَهْلِهِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُؤْجَرُ فِي شَهْوَتِهِ يُصِيبُهَا ؟ ! قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ آثِمًا ، أَلَيْسَ كَانَ يَكُونُ عَلَيْهِ الْوِزْرُ ؟ ! " فَقَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " فَكَذَلِكَ يُؤْجَرُ " .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ایسی چیزوں کا تذکرہ فرمایا جن پر انسان کو ثواب ملتا ہے اور ان میں اپنی بیوی کے " پاس آنے " کو بھی ذکر فرمایا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا انسان کو اپنی خواہش کی تکمیل پر بھی ثواب ملتا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر وہ گناہگار ہوتا تو اسے اس پر عذاب نہ ہوتا ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس طرح عذاب ہوتا ہے اس طرح ثواب ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21427
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1006، وسنده منقطع، أبوالبختري لم يدرك أبا ذر