حدیث نمبر: 21289
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حِمَازٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ ، فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ ، فَقِيلَ تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ ! أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ " ، ثُمَّ قَالَ : " لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ ، تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ " . .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر سے واپس آرہے تھے ہم نے ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کیا کچھ لوگ جلد بازی کر کے مدینہ منورہ چلے گئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ رات وہیں گذاری ہم بھی ہمراہ تھے جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے متعلق پوچھا، بتایا گیا کہ وہ جلدی مدینہ چلے گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی تو یہ مدینہ منورہ اور عورتوں کی طرف جلدی سے چلے گئے ہیں لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب یہ مدینہ منورہ کو بہترین حالت پر ہونے کے باوجود چھوڑ جائیں گے پھر فرمایا عنقریب یمن کے جبل وراق سے ایک آگ نکلے گی جس سے بصرے کے جوان اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی کی طرح روشن ہوجائیں گی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21289
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره لكن بلفظ: تخرج نار من الحجاز، وهذا إسناد ضعيف لأجل حبيب بن حماز