حدیث نمبر: 21126
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ حَبِيبٍ الزَّيَّاتُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَعَا لِأَحَدٍ بَدَأَ بِنَفْسِهِ ، فَذَكَرَ ذَاتَ يَوْمٍ مُوسَى ، فَقَالَ : " رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى مُوسَى ، لَوْ كَانَ صَبَرَ لَقَصَّ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِ ، وَلَكِنْ قَالَ : إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي ، قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا " . .
مولانا ظفر اقبال

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے لئے دعاء فرماتے تو اس کا آغاز اپنی ذات سے کرتے تھے چنانچہ ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہم پر اور موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اگر وہ صبر کرلیتے تو اللہ تعالیٰ ان کے واقعے کی دیگر تفصیلات بھی بیان فرما دیتا لیکن انہوں نے تو یہ کہہ دیا کہ اگر میں نے اس کے بعد آپ سے کوئی سوال پوچھا تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا آپ میری طرف سے عذر کو پہنچ گئے ہیں۔ "

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21126
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده صحيح