حدیث نمبر: 21105
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ أَرْضَى ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ أُبَيًّا حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَهَا رُخْصَةً لِلْمُؤْمِنِينَ لِقِلَّةِ ثِيَابِهِمْ ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْهَا بَعْدُ " ، يَعْنِي قَوْلَهُمْ الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ .
مولانا ظفر اقبال

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا تھا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں پندرہ سال کے تھے سے بحوالہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ لوگ جس فتوے کا ذکر کرتے ہیں کہ انزال پر غسل واجب ہوتا ہے وہ ایک رخصت تھی جو ابتداء اسلام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غسل کا حکم دے دیا تھا۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الأنصار رضي الله عنهم / حدیث: 21105
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: حديث صحيح دون قوله: لقلة ثيابهم، وهذا إسناد ضعيف من أجل رشيدين، لكنه قد توبع