حدیث نمبر: 211
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، قَالَ : لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ لِي : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : مَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ ، فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الْأَجْدَعُ شَيْطَانٌ " ، وَلَكِنَّكَ مَسْرُوقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ عَامِرٌ : فَرَأَيْتُهُ فِي الدِّيوَانِ مَكْتُوبًا : مَسْرُوقُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا ؟ فَقَالَ : هَكَذَا سَمَّانِي عُمَرُ .
مولانا ظفر اقبال

مسروق بن اجدع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں مسروق بن اجدع ہوں ، فرمایا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اجدع شیطان کا نام ہے ، اس لئے تمہارا نام مسروق بن عبدالرحمن ہے ، عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے ان کے رجسٹر میں ان کا نام مسروق بن عبدالرحمن لکھا ہوا دیکھا تو ان سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میرا یہ نام رکھا تھا ۔

حوالہ حدیث مسند احمد / مسند الخلفاء الراشدين / حدیث: 211
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: إسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد