حدیث نمبر: 20998
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَمِطَ مُقَدَّمُ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ ، فَإِذَا ادَّهَنَ وَمَشَطَ لَمْ يَتَبَيَّنْ ، وَإِذَا شَعِثَ رَأْسُهُ تَبَيَّنَ ، وَكَانَ كَثِيرَ الشَّعْرِ وَاللِّحْيَةِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَجْهُهُ مِثْلُ السَّيْفِ ؟ قَالَ : لَا ، بَلْ " كَانَ مِثْلَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ مُسْتَدِيرًا " ، قَالَ وَرَأَيْتُ " خَاتَمَهُ عِنْدَ كَتِفِهِ مِثْلَ بَيْضَةِ الْحَمَامَةِ ، يُشْبِهُ جَسَدَهُ " . .
مولانا ظفر اقبال

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اگلے حصے میں چند بال سفید تھے جب آپ سر پر تیل لگاتے تو بالوں کی سفیدی واضح نہیں ہوتی تھی اور جب تیل نہ لگاتے تو ان کی سفیدی واضح ہوجاتی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی کے بال گھنے تھے کسی نے پوچھا کہ ان کا چہرہ تلوار کی طرح چمکدار تھا ؟ انہوں نے فرمایا نہیں بلکہ چاند سورج کی طرح چمکدار تھا اور گولائی میں تھا اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی تھی وہ کبوتری کے انڈے جتنی تھی اور ان کے جسم کے مشابہہ تھی۔

حوالہ حدیث مسند احمد / أول مسند البصريين / حدیث: 20998
درجۂ حدیث حکم دارالسلام: صحيح لغيره، م: 2344، وهذا إسناد حسن